Tuesday, June 10, 2014

Cultural Narcissism- Part 8 (تہذیبی نرگسیت حصہ (8

 

مبارک حیدر

فحاشی اور عریانی کا سوال

مذہبی قیادت کو اگر قوم و ملت کے مسائل سے دلچسپی نہیں تو پھر وہ کیا ہے جو اس مسلم معاشرہ میں ہماری اس قیادت کومضطرب رکھتا ہے؟ معاشرہ کی اصلاح سے کون سی اصلاح مقصود ہے؟ اکثر و بیشتر بیانات ، تقاریر اور تحریروں سے جو اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ تقریباً ہر سطح کی مذہبی قیادت کو معاشرہ میں فحاشی اور عریانی سب سے بڑا مسئلہ دکھائی دیتی ہے۔ یا پھر نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کی ادائیگی میں لوگوں کی کوتاہی انہیں شدت سے بے قرار کرتی ہے۔

پچھلے تیس برس میں پاکستانی معاشرے میں بہت بڑی تعداد نے علماء کرام کے حکم کی تعمیل میں حجاب کا تمدن اختیار کیا ہے اور کروڑوں لوگ ارکانِ اسلام کی ادائیگی کے پابند ہوئے ہیں۔ ہر طرف لوگوں کے بدلے ہوئے حُلیے اور لباس دکھائی دیتے ہیں، جو مذہبی کارکنوں اور قائدین کے بتائے ہوئے حُلیے اور لباس ہیں، جنھیں سنتِ رسول ﷺ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بے شمار لوگ دینی اجتماعات میں حاضری دیتے ہیں، دعوتِ دین پر نکلتے ہیں۔ لاکھوں نوجوان مدرسوں سے فارغ التحصیل ہو کر مختلف حیثیتوں سے اسلام کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود فحاشی اور عریانی کا سوال علماء کرام کو ہر پل پریشان رکھتا ہے۔ تاہم فحاشی اور عریانی کی سزا صرف عورتوں کے لئے مخصوص دکھائی دیتی ہے۔ اور علماء کرام کا اضطراب کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔ مسجدوں میں، مدرسوں میں، ہر قسم کے مذہبی اجتماعات میں مذہبی مقررین اور خطیبوں کا لب و لہجہ اور زیادہ جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ عراق اور افغانستان کے مسلمانوں پر امریکی مظالم کے خلاف ہمارے مذہبی قائدین اور کارکن آج غم و غُصہ کی اس سطح پر ہیں جہاں انہیں کشمیر بھی یاد نہیں رہا۔ اور پاکستانی عوام کی تکلیف تو انہیں پہلے بھی زیادہ پریشان نہیں کرتی تھی۔





No comments:

Post a Comment